وضو کا طریقہ

وضو نماز سے پہلے کی طہارت ہے۔ اس کے فرائض قرآن (5:6) میں ہیں، اور نبی ﷺ کا طریقہ صحابہ نے بیان کیا۔

وضو کیوں ضروری ہے

طریقہ (سنی مسالک)

  1. دل میں نیت کریں اور بسم اللہ پڑھیں۔
  2. دونوں ہاتھ کلائیوں تک تین بار دھوئیں۔
  3. تین بار کلی کریں۔
  4. تین بار ناک میں پانی ڈالیں اور صاف کریں۔
  5. چہرہ پیشانی کے بالوں سے ٹھوڑی تک اور ایک کان سے دوسرے کان تک تین بار دھوئیں۔
  6. دایاں بازو کہنی سمیت تین بار دھوئیں، پھر بایاں۔
  7. گیلے ہاتھوں سے سر کا مسح کریں، پھر کانوں کا۔
  8. دایاں پاؤں ٹخنے سمیت تین بار دھوئیں، پھر بایاں، انگلیوں کے درمیان بھی۔

حضرت عثمان بن عفان نے نبی ﷺ کا وضو اسی طرح کر کے دکھایا: صحیح بخاری 159، صحیح مسلم 226۔ پاؤں دھونا: “ایڑیوں کے لیے آگ سے ہلاکت ہے” (صحیح بخاری 60، صحیح مسلم 241)۔

جعفری وضو

  1. نیت، پھر چہرہ پیشانی کے بالوں سے ٹھوڑی تک اوپر سے نیچے دھوئیں۔
  2. دایاں بازو کہنی سے انگلیوں کے سروں تک دھوئیں، پھر بایاں۔
  3. دائیں ہاتھ پر بچی ہوئی تری سے سر کے اگلے حصے کا مسح کریں۔
  4. ہاتھوں کی بچی ہوئی تری سے دائیں پاؤں کے اوپر انگلیوں سے ٹخنے تک مسح کریں، پھر بائیں کا۔

قرآن 5:6 کو پاؤں کے مسح کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔ امام باقرؑ نے نبی ﷺ کا وضو کر کے دکھایا اور ہاتھوں کی بچی ہوئی تری سے سر اور پاؤں کا مسح کیا: الکافی، جلد 3، کتاب الطہارۃ، ابواب صفتِ وضو اور مسحِ سر و پا۔

مسالک کا فرق

نیت

شافعی، مالکی، حنبلی اور جعفری مسالک میں وضو کے صحیح ہونے کی شرط؛ حنفی مسلک میں سنت۔

سر کا مسح

حنفی: کم از کم چوتھائی سر (نبی ﷺ نے پیشانی کے بالوں پر مسح کیا، صحیح مسلم 274)۔ شافعی: سر کا کوئی حصہ۔ مالکی اور حنبلی: پورا سر (صحیح بخاری 185، صحیح مسلم 235)۔ جعفری: سر کے اگلے حصے کا کچھ حصہ۔

پاؤں

سنی مسالک پاؤں دھوتے ہیں؛ جعفری مسلک مسح کرتا ہے۔

ترتیب اور تسلسل

شافعی، حنبلی اور جعفری: قرآن 5:6 کی ترتیب ضروری ہے۔ مالکی، حنبلی اور جعفری: اعضاء بغیر لمبے وقفے کے مسلسل دھوئے جائیں۔ حنفی: دونوں سنت ہیں۔

وضو کس چیز سے ٹوٹتا ہے

تمام مسالک: پیشاب پاخانہ، ہوا کا خارج ہونا، گہری نیند اور بے ہوشی (قرآن 5:6؛ صحیح بخاری 135)۔ خون بہنے، قے اور جنسِ مخالف کو چھونے میں مسالک مختلف ہیں، اس لیے اپنے مسلک پر عمل کریں۔

آخری بار اپ ڈیٹ: منگل، 6 اکتوبر، 2026

ترتیبات